Orders received after 6th May will be delivered after Eid Holidays.

Faqeer Basti Mein Tha

Faqeer Basti Mein Tha

Faqeer Basti Mein Tha

By: Ali Akbar Natiq


Publication Date:
Jan, 01 2020
Binding:
Hard Back
Availability :
In Stock
  • Rs 700.00

  • Ex Tax :Rs 700.00
  • Price in loyalty points :700

Due to constant currency fluctuation, prices are subject to change with or without notice.

Read More Details

’’فقیر بستی میں تھا‘‘ پڑھتے ہوئے گمان تک نہیں ہوتا کہ ہم آزاد کو نہیں، علی اکبر ناطق کو پڑھ رہے ہیں۔ آزاد پر یہ کتاب پچھلے سو سال میں واحد کتاب ہے جو واقعی اپنے موضوع اور اسلوب کے حوالے سےپڑھنے کے قابل اور لائق تحسین ہے۔ ناطق نے مولانا محمد حسین آزاد کا قلم مستعار لے کر یہ کتاب لکھی ہے۔

احمد جاوید

علی اکبر ناطق کی ہر نئی آنے والی تحریر ان کے ادبی نابغہ ہونے پر تصدیق کی مہر ثبت کرتی جاتی ہے۔ ناول اور افسانے کی ہوش ربا اور رواں نثر کے بعد مولانا محمد حسین آزاد کے سوانحی مرقعے ’’فقیر بستی میں تھا‘‘ نے یار لوگوں کو حیران اور ناقدین و حاسدین کو پریشان کر دیا ہے۔ یہ کتاب خود ان کے نثری اسلوب کی اگلی منزل ہے۔ سچ یہ ہے کہ مولوی محمد حسین آزاد پر جتنا لکھا گیا ہے، حیرت ہوتی ہے کہ ناطق کی کتاب اس میں کیا تحقیقی اضافہ کر سکتی تھی؟ یہ بات سچ ہوتی اگر مولوی آزاد سے ناطق کی تشدیدی عقیدت اور تکبیری محبت اس راہِ پُر خار میں ناطق کی ہمراہ نہ ہوتی۔ پچھلے نو سال کی رفاقت میں ناطق صاحب کی آزادؔ سے محبت کا لفظی و عملی مظاہرہ جو میرے تجربے میں رہا ہے وہ کئی حوالوں سے ناقابلِ یقین ہے، لہٰذا مولوی آزاد لاہور میں جہاں جہاں قیام پذیر رہے۔ ان علاقوں میں عملاً ناطق نے اپنے عشق کے پاپوش گِھسائے ہیں۔ میں اس داستان کا ذاتی گواہ ہوں۔
دہلی سے جنوب کی طرف روانگی کے باب میں ناطق نے بہت نادر تفصیلات سے بات بنائی ہے۔ اوّل تو یہ مواد عام دسترس میں نہیں اور جنوب کے بارے میں ہماری معلومات انتہائی سرسری ہیں۔ دوم ناطق نے عملی طور پر مولوی صاحب کو جنوب کی وادیوں اور کوہساروں میں جس طور سے پابہ جولاں دکھایا ہے، اُس پر خامۂ ناطق کے قربان ہونے کو جی چاہتا ہے۔ لاہور چونکہ ایک حوالے سے ناطق بھائی کا اپنا شہر بھی ہے لہٰذا کتاب کے اس حصے کی بحث اور تحقیق نہایت باریک ہو چلی ہے۔ بات، گلی کوچوں، کٹڑوں، مسکنوں، باغوں، نہروں، سواریوں، مسجدوں، امام باڑوں، حوضوں اور کتابوں کے شوق سے ہوتی ہوئی ان نادیدہ درختوں، راہداریوں اور ان میں اٹھتی بیٹھتی گرد تک جا پہنچتی ہے جن کے مولوی صاحب شاہد رہے۔ لاہور کے مساکن والے ابواب میں تفصیلات اتنی واضح اور اسلوب اتنا سہل و دل نشیں ہے کہ اگر کوئی میرے جیسا سادہ آدمی نقشے کی بجائے یہ کتاب لے کر پُرانے لاہور میں جا نکلے تو وہ بنگلہ ایوب شاہ (آہ اب وہ مرحوم ہو چلا) اور اکبری منڈی کے آثار پا سکتا ہے۔ ویسے بھی قاعدے ہوتے ہی الٹنے کے لیے ہیں، نقشہ نہیں کتاب سہی!
اس کتاب کے بلند ترین مقامات وہ ہیں جن میں فاضل مصنف مختلف متکلمین کا رُوپ دھار لیتا ہے۔ جیسا کہ اکبری منڈی والے مکان کی روداد اور مولانا کے جنازہ کے قصے کو بیان کرنے والے متکلم! ان حصوں میں قاری حقیقتاً بھول ہی جاتا ہے کہ وہ سوانحی کتاب پڑھ رہا ہے ۔
آخری باب یعنی مولوی صاحب کی موت، نہایت رنج افزوں ہے۔ واللہ ناطق صاحب کی محبت اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ وہ آزاد کی موت کو ایک فرد کی موت نہ رہنے دیتے بلکہ ایک عرصۂ تہذیب کے مٹنے کی داستان بنا دیتے اور یہی انھوں نے کیا۔ موت کی ٹریجیڈی کیا ہی بھر پور ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔