Gumnaam Gaon Ka Akhri Mazar

Gumnaam Gaon Ka Akhri Mazar

Gumnaam Gaon Ka Akhri Mazar

By: Rauf Klasra


Publication Date:
Jan, 01 2020
Binding:
Hard Back
Availability :
In Stock
  • Rs 700.00

  • Ex Tax :Rs 700.00
  • Price in loyalty points :700

Due to constant currency fluctuation, prices are subject to change with or without notice.

Read More Details

جواہر لعل نہرو نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ اپنے بارے میں لکھنا دُنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ آپ اپنی تعریف کرتے ہیں تو لوگوں کا دِل دُکھتا ہے اور اگر آپ اپنی تعریف نہیں کرتے تو آپ کا اپنا دل دُکھتا ہے۔

میں بھی اس وقت اسی کشمکش کا شکار ہوں۔ میں اپنی تعریف تو ہرگز نہیں کرنا چاہتا لیکن میں اپنی کچھ تحریروں پر بات ضرور کرنا چاہتا ہوں۔ کہتے ہیں ہر ادیب کو اپنی تمام تحریریں اپنے سبھی بچوں کی طرح اچھی لگتی ہیں۔ جیسے آپ بچوں میں کوئی فرق نہیں کر سکتے کہ کون زیادہ پسند ہے، ایسے ہی آپ کو اپنی تحریروں کے بارے میں لگتا ہے۔

آپ یقیناً سوچیں گے کہ ان تحریروں میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ آپ جیب سے پیسے خرچ کر کے خریدیں اور پڑھیں۔ یہ تو عام لوگوں کی کہانیاں ہیں، ان میں ایسا کیا خاص ہو گا؟ اس کتاب کو پڑھنے کی یہی تو بڑی وجہ ہے کیونکہ یہ عام لوگوں کی کہانیاں ہیں جن سے آپ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے اور یہی عام لوگ ہی آپ کو خاص لگیں گے۔

اس کتاب میں اس معاشرے کے کُچلے ہوئے گُمنام سے لوگوں کی کہانیاں ہیں اور یقین جانیے یہ سب سچّی ہیں۔ میرے لیے بڑا آسان تھا میں بڑے لوگوں کی کہانیاں آپ کو سُناتا جو سب لوگ خوشی سے سنتے کیونکہ ہم سب بڑے لوگ بننا چاہتے ہیں اور مجھ سے شاید کچھ متاثر بھی ہوتے۔ ہم وہی زندگی گزارنا چاہتے ہیں جو امیر اور بڑے لوگ گزارتے ہیں۔ ان کا لائف اسٹائل ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس لیے دُنیا بھر میں بڑے لوگوں کی آٹوبائیوگرافیز زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ لوگ پڑھتے ہیں کہ وہ بڑا آدمی کیسے بنا کہ شاید ان کتابوں میں کوئی ایسا نسخہ کیمیا مل جائے کہ وہ بھی اس کی طرح بڑے لوگ بن جائیں۔

ہو سکتا ہے بعض لوگ اسے انسپائریشن کا نام دیں کہ کامیاب لوگوں کو پڑھ کر آپ کے اندر بھی آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ آسمان کو چُھو سکتے ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ لیکن یہ طے ہے کہ کسی دوسرے انسان کی زندگی کے طریقے استعمال کر کے آپ اس طرح کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کامیاب آپ نے اپنے ہی فارمولے سے ہونا ہے۔ لیکن وہی بات کہ کامیاب لوگوں کی باتیں پڑھ کر آپ کو اچھا لگتا ہے۔

لیکن اس کتاب میں کسی بڑے آدمی کی کوئی کہانی نہیں ہے۔ اس میں کسی وزیرِ اعظم، وزیر، سفیر یا سرکاری بابوؤں یا ارب پتیوں سے دوستیوں یا ان سے میل ملاپ کی کہانیاں نہیں ہیں۔ یہ عام سے لاچار اور بے بس انسانوں کی داستانیں ہیں۔ اس لیے اس کتاب کا ہیرو میرے گاؤں کا کمہار چاچا میرو ہے جس کی کہانی لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں کئی دفعہ آنسو آئے اور کافی دیر تک کچھ نہ لکھا گیا، حتیٰ کہ مجھے اپنا قلم چھوڑنا پڑا۔