Maharaja Ranjeet Singh

Maharaja Ranjeet Singh

Maharaja Ranjeet Singh

By: PROF. N. K. SINHA


Publication Date:
Jul, 01 2018
Binding:
Hard Back
Availability :
In Stock
  • Rs 600.00

  • Ex Tax :Rs 600.00
  • Price in loyalty points :600

Due to constant currency fluctuation, prices are subject to change with or without notice.

Read More Details

رنجیت سنگھ کے زمانے میں پنجاب پرسکھوں کی حکومت تھی، رنجیت سنگھ جنگجو طبیعت کا مالک تھا، ایک آنکھ سے دیکھنے والا بہادر اور ذہین شخص تھا۔ ایک روز سکھ اکٹھے ہوکر رنجیت سنگھ کے دربار میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مسلمان جو صبح کو اذان دیتے ہیں، اس سے ہمارے برتن ناپاک ہوتے ہیں، مسلمانوں کو ایسا کرنے سے روکا جائے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ایک انوکھا تاریخی حکم دیا:’’ٹھیک ہے، مسلمانوں کو ایسا کرنے سے روکا جاتا ہے، مگر جتنے سکھ یہ شکایت لے کر آئے ہیں آج سے ان سب کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے کہ وہ علی الصبح اذان سے قبل ہر مسلمان کے گھر جائیں اور اسے بتائیں کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے۔‘‘ سکھوں پہ تو جیسے قیامٹ ٹوٹ پڑی، روزانہ ان کو مشقت کرنی پڑتی، نمازیوں کی تعداد مساجد میں پہلے سے بھی زیادہ ہو گئی۔ کچھ دِنوں بعد ان سکھوں نے ہاتھ جوڑ لیے اور رنجیت سنگھ سے کہا کہ آپ اپنا حکم واپس لے لیں، مسلمانوں کو اذان دینے دیں، اب برتن ناپاک نہیں ہوں گے۔


ایک حسین کنیز مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں رقص کر رہی تھی۔ رنجیت سنگھ عام سی شکل و صورت کا مالک تھا۔ رقص کے بعد کنیز نے مہاراجہ سے سوال کی اجازت طلب کی۔ مہاراجہ نے کہا، ’’پوچھو!‘‘
کنیز بولی، ’’جب خُدا حُسن تقسیم کر رہا تھا اُس وقت آپ کہاں تھے؟‘‘
راجہ نے غصہ نہ کیا بلکہ مُسکرا کر جواب دِیا: ’’جب تو حُسن کی قطار میں کھڑی حُسن مانگ رہی تھی تو میں قسمت کی لائن میں کھڑا قسمت لے رہا تھا اور یہ میری قسمت ہی ہے کے آج تجھ جیسی حُسن والیاں میری کنیزیں ہیں.‘