Mashaheer e ilm o Danish ki Aap Beetiyan

Mashaheer e ilm o Danish ki Aap Beetiyan

Mashaheer e ilm o Danish ki Aap Beetiyan

By: Muhammad Hamid Siraj


Publication Date:
Jan, 01 2018
Binding:
Hard Back
Availability :
In Stock
  • Rs 1,200.00

  • Ex Tax :Rs 1,200.00
  • Price in loyalty points :1200

Due to constant currency fluctuation, prices are subject to change with or without notice.

Read More Details
سیّد صدیق حسن خان کی آپ بیتی کی ورق گردانی شروع کی تو علم ہوا کہ آپ کا سلسلہ نسب تینتیس واسطوں سے براہِ راست سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ تک پہنچتا ہے۔ کتاب ایک طرف رکھ دی، ادب کا تقاضا تھا کہ باوضو مطالعہ کیا جائے۔ باوضو آپ بیتی کا مطالعہ کیا اور پھر اپنی سی کوشش کی کہ تمام آپ بیتیوں کا مطالعہ با وضو کیا جائے۔ میں نے با ادب با وضو اپنا وقت دو زانو، ان علمائے کرام کی صحبت میں گزارا اور رُوح کی سیرابی کا سامان کیا ۔ آپ بیتی کا مکمل مطالعہ کر لینے کے بعد تلخیص گری کا مرحلہ بڑا جانگسل ہے۔ تلخیص گری کرتے ہوئے اس بات کو مدِنظر رکھنا ہوتا ہے کہ اصل آپ بیتی کی رُوح مجروح نہ ہو اور شخصیت کی زندگی کے روشن اور اُجلے پہلو اپنی چمک دمک اور خوشبو سے محروم نہ ہوں۔ میں اس قابل ہر گز نہیں تھا کہ اس کام کی ذمہ داری لوں۔ مجھے اپنے جہل اور کم علمی کا مکمل اعتراف ہے۔ یہ کسرِنفسی نہیں سچ ہے۔ لیکن میرے دوست امر شاہد نے مٹھی بھر حوصلہ مجھے دان کیا اور میں نے ہمت کی پگڈنڈی پر تقویٰ کا زادِراہ ساتھ لیا اور ربّ کریم کی رحمت کی گھنیری چھاؤں میں سفر پکڑا۔ گزشتہ برس ہم نے ادیبوں کی آپ بیتیوں پر کام کیا اور سیکڑوں نامور ادیبوں کی آپ بیتیوں کی تلخیص گری کا چناؤ کیا اور متعدد آپ بیتیوں کی تلخیص پر خود محنت کی اور اس طرح ـ’’ نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ ہم نے آپ کے مطالعہ کے لیے طبع کی۔ ادارے نے پُرکشش سر ورق اور اعلیٰ طباعتی مراحل سے گزار کر اسے قاری تک پہنچایا۔ قاری کی تحسین اور پذیرائی سے ہمیں حوصلہ ودیعت ہوا اور ہم نے یہ سلسلہ جوڑے رکھنے اور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اسی سلسلہ میںہماری محنت ’’مشاہیر علم ودانش کی آپ بیتیاں‘‘ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کتاب پر آپ نے جو رقم خرچ کی ہے وہ رائیگاں نہیں جائے گی۔ میں نے قاری کی دلچسپی کے لیے اس بات کو مکمل دھیان میں رکھا ہے کہ آپ بیتیوں کے مطالعہ میں اکتاہٹ کا عنصر نہ ہو اور دلچسپی کے ساتھ قاری کو عملی زندگی میں رہنمائی اور روشنی ملے-
محمد حامد سراج