ظفر سید ہمارے وہ بادشاہ سلامت دوست ہیں جن کی تحریر و تقریر کی سلطنت کی حدود مشرق و مغرب کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ایسے بادشاہ سلامت دنیا میں کم کم اِس طرح کے طرح دار اور علم کے حُبدار پائے جاتے ہیں۔ دلیل، تاریخ اور سماج کا مطالعہ اِن کے علم کا پھریرا لہراتا ہوا جاتا ہے۔ تخیل میمنہ و میسرہ پر ادب و شعر کے پروں کو پھڑپھڑاتا ہوا اڑتا ہے تب قلم اِن کا قلبِ لشکر کا عَلم بلند کیے میدانِ تحریر میں اُترتا ہے۔ ظفر سید کی تحریر کے بیچ جستجو، علم، تخیل، تاریخ اور سماج کی کئی ایک ندیاں اِس روانی سے بہتی ہیں کہ ایک کے بعد ایک طلسم اُن کے پانیوں کی پیاس بجھاتا بھی جاتا ہے اور بڑھاتا بھی جاتا ہے۔